ابنا: سلامتی کونسل نے اس خبرکی تصدیق کردی ہے۔ بند دروازں کے پیچھے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں شام کے حالات اور عالمی مبصرین کے مشن کو معطل کرنے کی وجوہات بیان کی گئيں۔
شام میں اقوام متحدہ کے مبصرین کے کمانڈر رابرٹ موڈ نے کہا کہ شام میں ان مبصرین کی موجودگي کے لئے ضروری ہے کہ تشدد میں کمی آئے اور شام نیز مسلح گروہوں کی جانب سے مبصرین کی سلامتی کی ضمانت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شام کی حکومت نے مبصرین کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے لیکن مسلح گروہوں نے کسی بھی طرح کی ضمانت نہیں دی ہے۔
ادھراقوام متحدہ میں تحفظ امن کاروائيوں کے شعبے کے سربراہ ھروہ لادسوس نے کہا ہے کہ شام سے مبصرین کا انخلاء نہیں ہوگا بلکہ وہ کوفی عنان کے منصوبے پر تدریجی عمل درآمد کےلئےشام میں موجود رہیں گے۔ لادسوس نے کہا کہ شام کے بحران کو حل کرنے کا بہترین راستہ کوفی عنان کا منصوبہ ہی ہے۔
واضح رہے کہ شام میں امریکہ اور اسکے مغربی اور عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد سرگرم عمل ہیں۔ کوفی عنان کی تجویز کے مطابق شام کی فوج نے بعض علاقوں سے انخلا کردیا تھا جس کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشتگردوں نے دوبارہ بدامنی پھیلانا شروع کردی۔ امریکہ اور اس کے عرب اتحادی شام میں کوفی عنان کے منصوبے کو ناکام بنانے کے درپئےہیں۔....... /169